کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے مقامی ہوٹل میں عوامی تحریک کی سربراہی میں “قومون کی زمینوں اور دیگر وسائل پر قبضے اور عوامی و جمہوری مسائل” کے موضوع پر سیمینار ہوا۔ ملک کے تمام صوبوں سے ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے شرکت کی۔
جن میں عوامی تحریک کے صدر رسول بخش خاصخیلی، سندھیانی تحریک کی محترمہ سبحانی ڈاہری، مسلم لیگ نواز کے سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ ، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ ، ایس یو پی کے جنرل سکریٹری روشن برڑو ، سرائیکی پارٹی سندھ کے صدر سید شفقت بخاری نامور کتھک فنکارہ شما کرمانی ، چیئرمین تحریک فرید پاکستان خواجہ فرید کوریجو ، عوامی ورکرز پارٹی سندھ کے صدر بخشل تھلو ، اے جی پی جنرل سکریٹری نور نبی راہوجو ، دانشور مشتاق میرانی ، جیئے سندھ محاذ کے سربراہ عبد الخالق جونیجو ، سہائی سندھ کی ڈاکٹر عائشہ دھاریجو ، اظہر جمیل مصنف ، نامور تاریخ دان یوسف شاہین ، میر مظہر تالپر ، نامور قانون دان مسعود نورانی ، مصنف گل حسن کلمتی ، فہیم نوناری ، سرائیکی قومی کونسل کے صدر ظہور احمد اور سول سوسائٹی کے رہنمائوں نے خطاب کیا۔
عوامی تحریک کے سیمینار میں یہ قرادادیں پیش کی گئیں۔
مذہب کو ریاست سے الگ کیا جائے۔
پاکستان کو کشمیرالقومی ریست قراردیا جائے اور قومی ایکائیوں کو خودمختیار بنایا جائے۔
سندھو دریاء پر کسی بھی قسم کا میگا پراجیکٹ, ڈیم اور کئنال بنانے کے منصوبے ختم کیئے جائیں اور سندہو دریاء کو پرسن ہوڈ رائیٹ دےکر اس کا بھتے رہنے کا حق تسلیم کیا جائے۔
زرعی اصلاحات کرکے زمیں دفاعی اداروں, جاگیرداروں اور ملک ریاض جیسے سرمائیدارں سے لے کر بے زمیں مرد عورت کسانوں میں تقسیم کیا جائے۔
2 ھزار 13 میں سندہ اسیمبلی جس قرارداد ذریعی کراچی کی دیہی زمینین جہ زرعی زمینے ہیں اسے ملیر ڈولپمینٹ اتہارٹی اور لیاری ڈولپمینٹ اتہارٹی کے حوالے کی گئیں اسی واپسی لے کر آبادگاروں کے حوالے کی جائین۔ جواسے صدیوں سے آباد کر رہے ہیں۔






















































