سلام آباد: رابطوں، ملاقاتوں اور مشاورتی اجلاسوں کے بعد حکومت کی اتحادی جماعتیں اب عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی فیصلوں کی طرف بڑھ رہی ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس ضمن میں وہ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے جو ضمانتیں چاہتی تھیں اس سلسلے میں ملنے والی یقین دہانیوں پر بھی اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔
حکومت کی اتحادی جماعتوں کے ایک بااعتماد ذریعے سے تصدیق ہونے والی تفصیلات کے مطابق دونوں اتحادی جماعتوں کے ارکان نے اس حوالے سے حتمی فیصلے کے لیے ذہن بنا لیا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک میں ان کا ووٹ حکومت کے حق میں نہیں ہوگا۔
مذکورہ ذریعے کے مطابق گوکہ دونوں اتحادی جماعتوں میں اس حوالے سے پہلے قدرے تذبذب موجود تھا اور رائے منقسم تھی لیکن اس کی وجہ ملک میں امن وامان گڈ گورننس کا فقدان اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومتی طرز عمل اور روز افزوں بڑھتی مہنگائی، پانی، بجلی، گیس کی عدم فراہمی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سمیت دوسرے عوامل شامل تھے اور اتحادی جماعتوں کے ارکان بار بار ان خدشات کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ موجودہ حکومت کی عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے جس کا اظہار انہوں نے ضمنی الیکشن میں بھی کیا ہے۔
اب ہم حکومت کے حامی اور ان کے نمائندوں کی حیثیت سے آئندہ الیکشن میں کس منہ سے عوام سے ووٹ مانگنے جائیں گے لیکن اب حکومت کی جانب سے پہلے میلسی اور پھر لوئر دیر میں ہونے والے جلسوں سے وزیراعظم کے خطاب کے بعض حصوں پر شدید اعتراضات اور تحفظات سامنے آنے کے بعد اتحادی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ قائدین اور راہنماآں کا یقین بھی ’’ڈنواں ڈول‘‘ ہوگیا ہے اور اب انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک کے موقعہ پر اپوزیشن کی حمایت کا ذہن بنا لیا ہے۔
بالخصوص لوئر دیر میں وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران دو مواقعوں پر اپنی گفتگو میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ اعلیٰ ایوانوں سے لیکر ریستورانوں اور قہوہ خانوں سے شادی بیاہ کی تقریبات کے شرکاء میں بھی زیربحث ہیں۔ جہاں خود حکومتی جماعت کے حامیوں کے پاس بھی اپنے وزیراعظم کے دفاع کیلئے دلائل اور جواز موجود نہیں ہیں اور انہیں ندامت کے ساتھ خاموشی اختیار کرنی پڑ رہی ہے۔
اب ہم حکومت کے حامی اور ان کے نمائندوں کی حیثیت سے آئندہ الیکشن میں کس منہ سے عوام سے ووٹ مانگنے جائیں گے لیکن اب حکومت کی جانب سے پہلے میلسی اور پھر لوئر دیر میں ہونے والے جلسوں سے وزیراعظم کے خطاب کے بعض حصوں پر شدید اعتراضات اور تحفظات سامنے آنے کے بعد اتحادی جماعتوں کے ارکان کے ساتھ ساتھ قائدین اور راہنماآں کا یقین بھی ’’ڈنواں ڈول‘‘ ہوگیا ہے اور اب انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک کے موقعہ پر اپوزیشن کی حمایت کا ذہن بنا لیا ہے۔
بالخصوص لوئر دیر میں وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران دو مواقعوں پر اپنی گفتگو میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ اعلیٰ ایوانوں سے لیکر ریستورانوں اور قہوہ خانوں سے شادی بیاہ کی تقریبات کے شرکاء میں بھی زیربحث ہیں۔ جہاں خود حکومتی جماعت کے حامیوں کے پاس بھی اپنے وزیراعظم کے دفاع کیلئے دلائل اور جواز موجود نہیں ہیں اور انہیں ندامت کے ساتھ خاموشی اختیار کرنی پڑ رہی ہے۔























































