پنوم پن: کبوڈیا کورونا وائرس کو جڑ سے مکمل اکھاڑ پھینکنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا ہے تاہم اب بھی احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق براعظم ایشیا کے ملک کمبوڈیا میں 27 جنوری سے 12 اپریل تک کورونا وائرس کی 122 مریضوں میں تصدیق ہوئی تھی تاہم اس مہلک وائرس سے ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی، کورونا وائرس میں مبتلا آخری مریضہ کو بھی دارالحکومت کے ایک اسپتال سے صحت یابی کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔
کمبوڈیا میں 14 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں لیکن 12 اپریل سے کورونا وائرس کا کوئی نیا مریض سامنے نہیں آیا ہے اس کے باوجود کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کی جانے والے تمام احتیاطی تدابیر کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں اسکولوں کی بندش، قرنطینہ اور سخت سرحدی اور داخلی نگرانی شامل ہے۔
کمبوڈیا کے وزیر صحت مام بیون ہینگ نے کورونا پر قابو پانے کے باوجود احتیاطی تدابیر کو اختیار کیے رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شپری محتاط رہیں اور بڑے اجتماعات سے گریز کریں۔ سرحدی چیک پوائنٹس، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر جگہوں پر سخت نگرانی جاری رہے گی جس کے لیے عوام کو تعاون کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ چین اور نیوزی لینڈ کے بعد کمبوڈیا وہ تیسرا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس وبا پر قابو پالیا گیا ہے تاہم دنیا بھر میں اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکا میں ہوئی ہیں۔























































